8 اشعار

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو

Dard to maujood hai dil mein dawa ho ya na ho

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو

«درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہوبندگی حالت سے ظاہر ہے خدا ہو یا نہ ہو

جھومتی ہے شاخ گل کھلتے ہیں غنچے دم بہ دمبا اثر گلشن میں تحریک صبا ہو یا نہ ہو

وجد میں لاتے ہیں مجھ کو بلبلوں کے زمزمےآپ کے نزدیک با معنی صدا ہو یا نہ ہو

کر دیا ہے زندگی نے بزم ہستی میں شریکاس کا کچھ مقصود کوئی مدعا ہو یا نہ ہو

کیوں سول سرجن کا آنا روکتا ہے ہم نشیںاس میں ہے اک بات آنر کی شفا ہو یا نہ ہو

مولوی صاحب نہ چھوڑیں گے خدا گو بخش دےگھیر ہی لیں گے پولس والے سزا ہو یا نہ ہو

ممبری سے آپ پر تو وارنش ہو جائے گیقوم کی حالت میں کچھ اس سے جلا ہو یا نہ ہو

معترض کیوں ہو اگر سمجھے تمہیں صیاد دلایسے گیسو ہوں تو شبہ دام کا ہو یا نہ ہو

— اکبر اللہ آبادی