6 اشعار

نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے

Na behte ashq to taaseer mein siwa hote

نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے

«نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتےصدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتے

مجھ ایسے رند سے رکھتے ضرور ہی الفتجناب شیخ اگر عاشق خدا ہوتے

گناہ گاروں نے دیکھا جمال رحمت کوکہاں نصیب یہ ہوتا جو بے خطا ہوتے

جناب حضرت ناصح کا واہ کیا کہناجو ایک بات نہ ہوتی تو اولیا ہوتے

مذاق عشق نہیں شیخ میں یہ ہے افسوسیہ چاشنی بھی جو ہوتی تو کیا سے کیا ہوتے

محل شکر ہیں اکبرؔ یہ درفشاں نظمیںہر اک زباں کو یہ موتی نہیں عطا ہوتے

— اکبر اللہ آبادی