11 اشعار

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا

Na hasil hua sabr-o-araam dil ka

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا

«نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کانہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا

محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دمبھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا

پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میںمگر عشق میں ہو گیا نام دل کا

ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میںخدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا

یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیںیہی لے گئیں صبر و آرام دل کا

دھواں پہلے اٹھتا تھا آغاز تھا وہہوا خاک اب یہ ہے انجام دل کا

جب آغاز الفت ہی میں جل رہا ہےتو کیا خاک بتلاؤں انجام دل کا

خدا کے لئے پھیر دو مجھ کو صاحبجو سرکار میں کچھ نہ ہو کام دل کا

پس مرگ ان پر کھلا حال الفتگئی لے کے روح اپنی پیغام دل کا

تڑپتا ہوا یوں نہ پایا ہمیشہکہوں کیا میں آغاز و انجام دل کا

دل اس بے وفا کو جو دیتے ہو اکبرؔتو کچھ سوچ لو پہلے انجام دل کا

— اکبر اللہ آبادی