7 اشعار

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی

Na rooh-e-mazhab, na qalb-e-aarif, na shairana zubaan baqi

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی

«نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقیزمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقی

شب گزشتہ کے ساز و ساماں کے اب کہاں ہیں نشان باقیزبان شمع سحر پہ حسرت کی رہ گئی داستان باقی

جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکرخدا کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رخصت گمان باقی

فضول ہے ان کی بد دماغی کہاں ہے فریاد اب لبوں پریہ وار پر وار اب عبث ہیں کہاں بدن میں ہے جان باقی

میں اپنے مٹنے کے غم میں نالاں ادھر زمانہ ہے شاد و خنداںاشارہ کرتی ہے چشم دوراں جو آن باقی جہان باقی

اسی لیے رہ گئی ہیں آنکھیں کہ میرے مٹنے کا رنگ دیکھیںسنوں وہ باتیں جو ہوش اڑائیں اسی لیے ہیں یہ کان باقی

تعجب آتا ہے طفل دل پر کہ ہو گیا مست نظم اکبرؔابھی مڈل پاس تک نہیں ہے بہت سے ہیں امتحان باقی

— اکبر اللہ آبادی