6 اشعار

پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی

Phir gayi aap ki do din mein tabiyat kaisi

پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی

«پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسییہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی

دوست احباب سے ہنس بول کے کٹ جائے گی راترند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی

جس حسیں سے ہوئی الفت وہی معشوق اپناعشق کس چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی

ہے جو قسمت میں وہی ہوگا نہ کچھ کم نہ سواآرزو کہتے ہیں کس چیز کو حسرت کیسی

حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھےآج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی

کوچۂ یار میں جاتا تو نظارہ کرتاقیس آوارہ ہے جنگل میں یہ وحشت کیسی

— اکبر اللہ آبادی