6 اشعار

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی

Rang sharāb se merī nīyat badal gaī

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی

«رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے خواجہ اشرف نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئیواعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی

طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حورجلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی

مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہےصیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی

چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شامپروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی

عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیالدنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی

حسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیںپردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں