5 اشعار

یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا

Yaar ne kuch khabar na li, dil ne jigar ne kya kya

یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا

«یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیانالۂ شب سے کیا ہوا، آہِ سحر نے کیا کیا

دونوں کو پا کے بے خبر، کر گئے کام حسن و عشقدل نے ہمارے کیا کیا، ان کی نظر نے کیا کیا

صاحبِ تاج و بخت بھی، موت سے یاں نہ بچ سکےجاہ و حشم سے کیا ہوا، کثرتِ زر نے کیا کیا

کھل گیا سب پہ حالِ دل، ہنستے ہیں دوست برملاضبط کیا نہ رازِ عشق، دیدۂ تر نے کیا کیا

اکبرِؔ خستہ دل کا حال، قابلِ رحم ہو گیااس سے سلوک، کیا کہوں، تیری نظر نے کیا کیا

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں