یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا
کلام: اکبر اللہ آبادی
یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیانالۂ شب سے کیا ہوا، آہِ سحر نے کیا کیا
دونوں کو پا کے بے خبر، کر گئے کام حسن و عشقدل نے ہمارے کیا کیا، ان کی نظر نے کیا کیا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیانالۂ شب سے کیا ہوا، آہِ سحر نے کیا کیا
دونوں کو پا کے بے خبر، کر گئے کام حسن و عشقدل نے ہمارے کیا کیا، ان کی نظر نے کیا کیا