6 اشعار

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے

Aye dil woh aashiqi ke fasaane kidhar gaye

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے

«اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئےوہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئے

ویراں ہیں صحن و باغ بہاروں کو کیا ہواوہ بلبلیں کہاں وہ ترانے کدھر گئے

ہے نجد میں سکوت ہواؤں کو کیا ہوالیلائیں ہیں خموش دوانے کدھر گئے

اجڑے پڑے ہیں دشت غزالوں پہ کیا بنیسونے ہیں کوہسار دوانے کدھر گئے

وہ ہجر میں وصال کی امید کیا ہوئیوہ رنج میں خوشی کے بہانے کدھر گئے

دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگیاخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں