8 اشعار

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے

Woh kabhi mil jaayen to kya keejiye

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے

«وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئےرات دن صورت کو دیکھا کیجئے

چاندنی راتوں میں اک اک پھول کوبے خودی کہتی ہے سجدہ کیجئے

جو تمنا بر نہ آئے عمر بھرعمر بھر اس کی تمنا کیجئے

عشق کی رنگینیوں میں ڈوب کرچاندنی راتوں میں رویا کیجئے

پوچھ بیٹھے ہیں ہمارا حال وہبے خودی تو ہی بتا کیا کیجئے

ہم ہی اس کے عشق کے قابل نہ تھےکیوں کسی ظالم کا شکوہ کیجئے

آپ ہی نے درد دل بخشا ہمیںآپ ہی اس کا مداوا کیجئے

کہتے ہیں اخترؔ وہ سن کر میرے شعراس طرح ہم کو نہ رسوا کیجئے

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں