7 اشعار

بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)

Bujha sa rehta hai dil jab se hain watan se juda (radeef .. n)

بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)

«بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جداوہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیں

بسے ہوئے ہیں نگاہوں میں وہ حسیں کوچےہر ایک ذرہ جہاں کم ز آفتاب نہیں

وہ باغ و راغ کے دلچسپ و دل نشیں منظرکہ جن کے ہوتے ہوئے خلد مثل خواب نہیں

وہ جوئبار رواں کا طرب فزا پانیشراب سے نہیں کچھ کم اگر شراب نہیں

برنگ زلف پریشاں وہ موج ہائے رواںکہ جن کی یاد میں راتوں کو فکر خواب نہیں

سما رہے ہیں نظر میں وہ مہوشان حرمحرم میں جن کے ستارے بھی باریاب نہیں

وطن کا چھیڑ دیا کس نے تذکرہ اخترؔکہ چشم شوق کو پھر آرزوئے خواب نہیں

— اختر شیرانی