12 اشعار

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا

Dil-e-mahjoor ko taskeen ka samaan nah mila

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا

«دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملاشہر جاناں میں ہمیں مسکن جاناں نہ ملا

کوچہ گردی میں کٹیں شوق کی کتنی راتیںپھر بھی اس شمع تمنا کا شبستاں نہ ملا

پوچھتے منزل سلمیٰ کی خبر ہم جس سےوادیٔ نجد میں ایسا کوئی انساں نہ ملا

یوں تو ہر راہ گزر پر تھے ستارے رقصاںجس کی حسرت تھی مگر وہ مہ تاباں نہ ملا

لالہ و گل تھے بہت عام چمن میں لیکنڈھونڈتے تھے جسے وہ سرو خراماں نہ ملا

جس کے پردوں سے مچلتی ہو وہی نکہت شوقبے خودی کی قسم ایسا کوئی ایواں نہ ملا

بخت بیدار کہاں جلوۂ دل دار کہاںخواب میں بھی ہمیں وہ غنچۂ خنداں نہ ملا

بیکسی تشنہ لبی درد حلاوت طلبیچاندنی رات میں بھی چشمۂ حیواں نہ ملا

یوں تو ہر در پہ ہی کہتے نظر آئے دامنکھینچتے ناز سے جس کو وہی داماں نہ ملا

کس کے در پر نہ کیے سجدے نگاہوں نے مگرہائے تقدیر وہ غارت گر ایماں نہ ملا

کون سے بام کو رہ رہ کے نہ دیکھا لیکننگہ شوق کو وہ ماہ خراماں نہ ملا

در جاناں پہ فدا کرتے دل و جاں اخترؔوائے بر‌‌ حال‌ دل و جاں در جاناں نہ ملا

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں