9 اشعار

بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے

Baja ke hai paas hashr hum ko karein ge paas shabab pehle

بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے

«بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلےحساب ہوتا رہے گا یا رب ہمیں منگا دے شراب پہلے

فضائے شب ہنس کے جگمگائی وہ نازنیں صبح بن کے آئیہوا ہے روشن مرے شبستاں میں چاند سے آفتاب پہلے

زباں پہ آیا نہ حرف مطلب کہ کہہ گئیں کچھ شریر نظریںسوال کرنے نہ پائے ہیں ہم کہ مل گیا ہے جواب پہلے

جناں میں پہلے پہل پیے گا تو لڑکھڑاتا پھرے گا زاہدسرور کوثر کی ہے اگر دھن جہاں میں پی لے شراب پہلے

ہے خسرو عشق کا یہ فرماں کہ دل لگانا نہیں ہے آساںجسے ہو کوئے بتاں کا ارماں وہ کو بہ کو ہو خراب پہلے

غم و الم رنج و یاس و حسرت اٹھاؤں گا سب کے رخ سے پردےتمہیں قسم ہے دل حزیں کی اٹھاؤ تو تم نقاب پہلے

الٰہی وہ بوئے پیرہن سے بھی پہلے ہو ہمکنار آ کرچمن میں ہوتا ہے جلوہ افروز پھول سے ماہتاب پہلے

یہ کس کے رنگ رخ بہاریں نے بخش دی ہے طراوت نوشگفتہ ہوتا نہ تھا گلستاں میں اس ادا سے گلاب پہلے

نگاہ ساقی کی مسکرائی کہا جب اخترؔ نے اپنی دھن میںپئیں گے پیتے رہیں گے میکش مگر یہ خانہ خراب پہلے

— اختر شیرانی