8 اشعار

حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل

Hazeen hai be-kas-o-ranjoor hai dil

حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل

«حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دلمحبت پر مگر مجبور ہے دل

تمہارے نور سے معمور ہے دلعجب کیا ہے کہ رشک طور ہے دل

تمہارے عشق سے مسرور ہے دلابھی تک مست ہے مخمور ہے دل

کیا ہے یاد اس یاد جہاں نےالٰہی کس قدر مسرور ہے دل

بہت چاہا نہ جائیں تیرے در پرمگر کیا کیجیے مجبور ہے دل

فقیری میں اسے حاصل ہے شاہیتمہارے عشق پر مغرور ہے دل

ترے جلوے کا ہے جس دن سے مسکنجواب جلوہ گاہ طور ہے دل

دو عالم کو بھلا دیں کیوں نہ اخترؔکہ اس کی یاد سے معمور ہے دل

— اختر شیرانی