40 اشعار

اے عشق ہمیں برباد نہ کر

Aye ishq hamein barbad na kar

اے عشق ہمیں برباد نہ کر

«اے عشق ہمیں برباد نہ کر» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کرپہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم تو اور ہمیں ناشاد نہ کر

قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ یہ تازہ ستم ایجاد نہ کریوں ظلم نہ کر بیداد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کرجس دن سے ملے ہیں دونوں کا سب چین گیا آرام گیا

چہروں سے بہار صبح گئی آنکھوں سے فروغ شام گیاہاتھوں سے خوشی کا جام چھٹا ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا

غمگیں نہ بنا ناشاد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر

ہم راتوں کو اٹھ کر روتے ہیں رو رو کے دعائیں کرتے ہیںآنکھوں میں تصور دل میں خلش سر دھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیں

اے عشق یہ کیسا روگ لگا جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیںیہ ظلم تو اے جلاد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کریہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ

ہر وقت تپش ہر وقت خلش بے خواب ہوں میں بے دار ہے وہجینے پہ ادھر بیزار ہوں میں مرنے پہ ادھر تیار ہے وہ

اور ضبط کہے فریاد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر

جس دن سے بندھا ہے دھیان ترا گھبرائے ہوئے سے رہتے ہیںہر وقت تصور کر کر کے شرمائے ہوئے سے رہتے ہیں

کمھلائے ہوئے پھولوں کی طرح کمہلائے ہوئے سے رہتے ہیںپامال نہ کر برباد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کربے درد! ذرا انصاف تو کر اس عمر میں اور مغموم ہے وہ

پھولوں کی طرح نازک ہے ابھی تاروں کی طرح معصوم ہے وہیہ حسن ستم! یہ رنج غضب! مجبور ہوں میں مظلوم ہے وہ

مظلوم پہ یوں بیداد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر

اے عشق خدارا دیکھ کہیں وہ شوخ حزیں بد نام نہ ہووہ ماہ لقا بد نام نہ ہو وہ زہرہ جبیں بد نام نہ ہو

ناموس کا اس کے پاس رہے وہ پردہ نشیں بد نام نہ ہواس پردہ نشیں کو یاد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کرامید کی جھوٹی جنت کے رہ رہ کے نہ دکھلا خواب ہمیں

آئندہ کی فرضی عشرت کے وعدوں سے نہ کر بیتاب ہمیںکہتا ہے زمانہ جس کو خوشی آتی ہے نظر کم یاب ہمیں

چھوڑ ایسی خوشی کو یاد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر

کیا سمجھے تھے اور تو کیا نکلا یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہمہے پہلے پہل کا تجربہ اور کم عمر ہیں ہم انجان ہیں ہم

اے عشق! خودارا! رحم و کرم معصوم ہیں ہم نادان ہیں ہمنادان ہیں ہم ناشاد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کروہ راز ہے یہ غم آہ جسے پا جائے کوئی تو خیر نہیں

آنکھوں سے جب آنسو بہتے ہیں آ جائے کوئی تو خیر نہیںظالم ہے یہ دنیا دل کو یہاں بھا جائے کوئی تو خیر نہیں

ہے ظلم مگر فریاد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر

دو دن ہی میں عہد طفلی کے معصوم زمانے بھول گئےآنکھوں سے وہ خوشیاں مٹ سی گئیں لب کو وہ ترانے بھول گئے

ان پاک بہشتی خوابوں کے دلچسپ فسانے بھول گئےان خوابوں سی یوں آزاد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کراس جان حیا کا بس نہیں کچھ بے بس ہے پرائے بس میں ہے

بے درد دلوں کو کیا ہے خبر جو پیار یہاں آپس میں ہےہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس یہ زہر چھپا اس رس میں ہے

کہتی ہے حیا فریاد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر

آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ہر جذب نہاں پر رو دیناآہنگ طرب پر جھک جانا آواز فغاں پر رو دینا

بربط کی صدا پر رو دینا مطرب کے بیاں پر رو دینااحساس کو غم بنیاد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کرہر دم ابدی راحت کا سماں دکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر

للٰلہ حباب آب رواں پر نقش بقا تحریر نہ کرمایوسی کے رمتے بادل پر امید کے گھر تعمیر نہ کر

تعمیر نہ کر آباد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر

جی چاہتا ہے اک دوسرے کو یوں آٹھ پہر ہم یاد کریںآنکھوں میں بسائیں خوابوں کو اور دل میں خیال آباد کریں

خلوت میں بھی ہو جلوت کا سماں وحدت کو دوئی سے شاد کریںیہ آرزوئیں ایجاد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کردنیا کا تماشا دیکھ لیا غمگین سی ہے بیتاب سی ہے

امید یہاں اک وہم سی ہے تسکین یہاں اک خواب سی ہےدنیا میں خوشی کا نام نہیں دنیا میں خوشی نایاب سی ہے

دنیا میں خوشی کو یاد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں