دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا
کلام: وسیم بریلوی
دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتاتم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا
پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تککیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتاتم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا
پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تککیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا
بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھےہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے
ہمیں نے کر دیا اعلان گمرہی ورنہہمارے پیچھے بہت لوگ آنے والے تھے
وہ جذبہ جو نسائی جذبوں کی مُنتہا ہےدُنیا میں نام اس کا اک ماں کی مامتا ہے
آغوشِ ناز گنجِ اقبال سے بھرا ہےیا خوابِ رُوح مستِ تعبیر ہو رہا ہے