7 اشعار

نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی

Nah saaz o mutrib nah jaam o saaqi nah woh bahaar-e-chaman hai baaqi

نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی

«نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقینگاہ شمع سحر کے پردے یہ نقشۂ انجمن ہے باقی

زمانہ گزرا وہ یاسمن بو جدا ہوئی ہمکنار ہو کرمگر ابھی تک ہمارے پہلو میں نکہت یاسمن ہے باقی

بھلا چکی دل سے شام غربت ہر ایک نقشہ ہر ایک صورتہماری آنکھوں میں لیکن اب تک فروغ صبح وطن ہے باقی

زمانہ بدلا مٹی جوانی نہ وہ محبت نہ زندگانیبس ایک بھولی سی یاد ہے جو برنگ داغ کہن ہے باقی

مٹا دئے بے ستون چرخ کہن نے شیریں لقا ہزاروںمگر محبت کے لب پر اب بھی ترانۂ کوہکن ہے باقی

حباب آسا محیط ہستی میں جو ہے مٹنے کو بن رہا ہےہے انقلاب اک نمود ایسی جو زیر چرخ کہن ہے باقی

غم زمانہ کی سختیوں سے ہوئی ہے پامال طبع اخترؔنہ وہ نشاط کہن ہے باقی نہ وہ مذاق سخن ہے باقی

— اختر شیرانی