5 اشعار

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے

Pade the hum bhi jahan roshni mein bikhre hue

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے

«پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے» اختر شمار کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئےکئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے

مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارےکہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے

دھنک سی آنکھ کہے بانسری کی لے میں مجھےستارے ڈھونڈ کے لا نغمگی میں بکھرے ہوئے

میں پر سکون رہوں جھیل کی طرح یعنیکسی خیال کسی خامشی میں بکھرے ہوئے

وہ مسکرا کے کوئی بات کر رہا تھا شمارؔاور اس کے لفظ بھی تھے چاندنی میں بکھرے ہوئے

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں