7 اشعار

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا

Wo jis ka aks lahu ko jaga diya karta

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا

«وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا» اختر شمار کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتامیں خواب خواب میں اس کو صدا دیا کرتا

قریب آتی جو تاریخ اس کے ملنے کیوہ اپنے وعدے کی مدت بڑھا دیا کرتا

میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کاوہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا

اسے سمیٹتا میں جب بھی ایک نقطے میںوہ میرے دھیان میں تتلی اڑا دیا کرتا

اسی کے گاؤں کی راہوں میں بیٹھ کر ہر روزمیں دل کا حال ہوا کو سنا دیا کرتا

مجھے وہ آنکھ میں رکھ کر شمارؔ پچھلی شبعجب خمار میں پلکیں گرا دیا کرتا

نہ چھیڑ مجھ کو زمانہ وہ اور تھا جس میںفقیر گالی کے بدلے دعا دیا کرتا

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں