جد وی اُس دربارے گئے سی
کلام: اختر شمار
جد وی اُس دربارے گئے سیکُجھ جُرمانے تارے گئے سی
اوہدے سامنے کُجھ تے دسّوسَنگیو! کِنج گزارے گئے سی
تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار
مہمان شاعر: اختر شمار
جد وی اُس دربارے گئے سیکُجھ جُرمانے تارے گئے سی
اوہدے سامنے کُجھ تے دسّوسَنگیو! کِنج گزارے گئے سی
پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئےکئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے
مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارےکہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیںاس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں