4 اشعار

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے

Ya toh sooraj jhoot hai ya phir yeh saaya jhoot hai

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے

«یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے» اختر شمار کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہےآنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے

مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیاخوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے

خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ ساتھکیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہے وہ دریا جھوٹ ہے

زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ جانئےدشت میں بھٹکا ہوا جیسے بگولا جھوٹ ہے

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں