یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے
کلام: اختر شمار
یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہےآنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے
مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیاخوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے
تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار
مہمان شاعر: اختر شمار
یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہےآنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے
مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیاخوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے
ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کوناتر رہا ہے شمارؔ آج میرے دھیان سے کون
ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیانکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون