9 اشعار

اک رنج بہ پیرایۂ زر کیوں نہیں جاتا

Ek ranj ba-paira ye zar kyuun nahin jaata

اک رنج بہ پیرایۂ زر کیوں نہیں جاتاکشکول ہوس ہے تو یہ بھر کیوں نہیں جاتا

وہ آئنہ رو ہے تو مرا روپ دکھائےمیں اس کے مقابل ہوں سنور کیوں نہیں جاتا

دریا کا تلاطم تو بہت دن کی کتھا ہےلیکن مرے اندر کا بھنور کیوں نہیں جاتا

کہتے ہو کہ ہو اسوۂ شبیر پہ قائمدربار میں کیوں جاتے ہو سر کیوں نہیں جاتا

جب روح سے کہتے ہو کہ لبیک حسیناپھر جی سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا

تم صاحب معنیٰ ہو تو تمثال پہ مت جاؤالزام کبھی آئنے پر کیوں نہیں جاتا

لو شام گئی رات ہے کابوس ہے میں ہوںمیں صبح کا بھولا ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا

ہر سنگ دعا مجھ کو لگا پھول سے بڑھ کرجب اتنی دعائیں ہیں تو مر کیوں نہیں جاتا

اخترؔ تری گفتار فسوں کار میں کیا ہےجو بھی ادھر آتا ہے ادھر کیوں نہیں جاتا

— اختر عثمان