7 اشعار

ابھی تو پر بھی نہیں تولتا اڑان کو میں

Abhi to par bhi nahin tolta udaan ko main

ابھی تو پر بھی نہیں تولتا اڑان کو میںبلا جواز کھٹکتا ہوں آسمان کو میں

مفاہمت نہ سکھا دشمنوں سے اے سالارتری طرف نہ کہیں موڑ دوں کمان کو میں

مری طلب کی کوئی چیز شش جہت میں نہیںہزار چھان چکا ہوں تری دکان کو میں

نہیں قبول مجھے کوئی بھی نئی ہجرتکٹاؤں کیوں کسی بلوے میں خاندان کو میں

تجھے نخیل فلک سے پٹخ نہ دوں آخرترے سمیت گرا ہی نہ دوں مچان کو میں

یہ کائنات مرے سامنے ہے مثل بساطکہیں جنوں میں الٹ دوں نہ اس جہان کو میں

جسے پہنچ نہیں سکتا فلاسفہ کا شعوریقیں کے ساتھ ملاتا ہوں اس گمان کو میں

— اختر عثمان