23 اشعار

کوزہ گر

Kooza Gar

کوزہ گر

«کوزہ گر» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

کہیں قومیت ہے کہیں ملک و ملّت کی زنجیر ہےکہیں مذہبیت، کہیں حریت، ہر قدم پر عناں گیر ہے

اگر میں یہ پردہ ہٹا دوں جسے لفظ ماضی سے تعبیر کرتے رہے ہیںاگر میں حدود زماں و مکاں سب مٹا دوں

اگر میں یہ دیواریں جتنی کھڑی ہیں گرا دوںتو ہر قید اُٹھ جائے، یہ زندگی جو قفس ہے

یوں ہی دیکھتے دیکھتے تیلیاں سب بکھیر جائیں اس کیاور انسان اپنے صحیح رُوپ میں ہر جگہ دے دکھائی

کسی غار کے منہ پہ بیٹھا، کسی سخت اُلجھن میں غلطاںکہیں شعلہ دریافت کر نے کی خواہش میں پیچاں

کہیں زندگی کو نظام و تسلسل میں لانے کا خواہاںجہاں کو حسیں دیکھنے کی تمنّا میں کوشاں

زمیں دور تک ایسے پھیلی ہوئی ہےکشادہ کوئی خوانِ نعمت ہے جیسے

جہاں کوئی پہرہ نہیں کوئی تخصیص و تفریق انساںیہ سب کی ہے سب کے لیے ہے یہاں سب ہیں مدعو!

میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو بانیِ شر ہےجو رشیوں، رسولوں کی محنت کو برباد کرتا رہا ہے

میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو ہر دور میں بے محابانئے بھیس میں سامری بن کے آتا ہے اور موہتا ہے دلوں کو

اسے ڈھونڈتا ہوں میں جس نے ہر اِک خوان نعمت یہ پہرے لگائےزمیں کو زمیں سے الگ کر دیا سیکڑوں نام دے کر

اجارہ کی بنیاد ڈالی، کیا جاری پروانۂ راہ داریبجائے حسیں اعلیٰ قدروں کے تاسیس عالم

رکھی مصلحت پر، مفادات پر، خود پرستی پہ ساریاور انسان کو خام اشیا میں تبدیل کر کے

بہت پہلے اس سے کہ انسان انسان بنتااسے ایک شطرنج کا چوبی مہرہ بنا کر

مقابل کھڑا کر دیا ایک کو دوسرے کےکہاں ہے وہ قوت وہ ہستی جو یوں عصر کی روح بن کر

فضاؤں کو مسموم کرتی ہے لاشوں سے بھر دیتی ہے خندقوں کومیں للکارتا ہوں اسے وہ اگر اتنا ہی جادو گر ہے

تو سورج کو مشرق کے بدلے نکالے کبھی آ کے مغرب سے اِک لمحہ بھر کوہواؤں کی تاثیر بدلے پہاڑوں کو لاوے میں تبدیل کر دے

سمندر سکھا دے، ہر اِک جلتے صحرا کو زرخیز میداں بنا دےاصول مشیت بدل دے، زمین آسمانوں کے سب سلسلے توڑ ڈالے

مگر میں اسے کیسے للکار سکتا ہوں، یہ تو خدا ہےحیات و نمو کی وہ قوت، تغیر جو خود سامری ہے

یہ وہ کوزہ گر ہے جو خود مسخ کرتا ہے چہرے بنا کریہ وہ کوزہ گر ہے اسی ایک مٹّی کو ہر بار متھ کر

بنا کر نئے ظرف رکھتا ہے کچھ دیر شیشیوں کے پیچھے سجا کرانھیں خود ہی پھر توڑ دیتا ہے سب ظرف کوزے قوانین اخلاق سارے

جہاں اتنی شکلیں بنائی بگاڑی ہیں یہ زندگی کا نیا بت بھی اِک دنفراموش گاری کے اس ڈھیر میں پھینک دے گا جہاں ایسی کتنی ہی چیزیں پڑی ہیں

کہ یہ چاک تو چل رہا ہے یوں ہی آفرینش سے گردش میں ہے اور رہے گا!

— اخترالایمان