5 اشعار

کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار

koi jo rehta hai rehne do maslahat ka shikar

کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار

«کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکارچلو کہ جشن بہاراں منائیں گے سب یار

چلو نکھاریں گے اپنے لہو سے عارض گلیہی ہے رسم وفا اور منچلوں کا شعار

جو زندگی میں ہے وہ زہر ہم بھی پی ڈالیںچلو ہٹائیں گے پلکوں سے راستوں کے خار

یہاں تو سب ہی ستم دیدہ غم گزیدہ ہیںکرے گا کون بھلا زخم ہائے دل کا شمار

چلو کہ آج رکھی جائے گی نہاد چمنچلو کہ آج بہت دوست آئیں گے سر دار

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں