19 اشعار

یہ دور

Yeh Daur

یہ دور

«یہ دور» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

نہ وہ زمیں ہے، نہ وہ آسماں، نہ وہ شب و روزکبھی سمٹتی کبھی پھیلتی ہیں غم کی حدود

ٹھہر گئی ہے اِک ایسے مقام پر دنیاجہاں نہ رات نہ دن ہے نہ بے کلی نہ جمود

پکارتے ہیں ستارے سنبھالتی ہے زمیںہر ایک شئے سے گریزاں ابھی ہے میرا وجود

میں سوچتا ہوں کہیں زندگی نہ بن جائےخزاں بدوش بہاریں، خمار زہر آلود!

میں اسی طور سے گرداں ہوں زمانے میں، وہیصبح ہے، شام ہے، گہنائی ہوئی راتیں ہیں

کوئی آغاز، نہ انجام، نہ منزل نہ سفرسب وہی دوست ہیں، دہرائی ہوئی باتیں ہیں

چہرے اُترے ہوئے دن رات کی محنت کے سببسب وہی بغض و حسد، رشک و رقابت، شکوے

دام تزویر ہے، اُلجھاؤ کی سو گھاتیں ہیںسب گلی کوچے وہی، لوگ وہی، موڑ وہی

یہ وہی سردی ہے، یہ گرمی، یہ برساتیں ہیںزلف کی بات ہے یا زہر کہ سب ڈرتے ہیں

کوئی دل دار، نہ دل بر، نہ ملاقاتیں ہیںکوئی بشاش ہنسی، جینے کی نوخیز اُمنگ

کچھ نہیں بس غم و اندوہ کی باراتیں ہیںتنگ دامانی کا شکوہ ہے خدا سے ہر وقت

ہر مرض کے لیے نسخے میں مناجاتیں ہیںجی اُلٹ جاتا ہے اس حبس مسلسل سے مرا

ذہن جاتا ہے کسی نازش خوبی کی طرفیعنی وہ پرتو گل خانہ بر انداز چمن

ایک پروائی کا جھونکا سا گھنی بدلی سیشاہد نکہت و انوار سحر، راحت من

رسم دلداری ہے اس سیم بدن کے دم سےاور مرے دم سے ہے عشاق کا بے داغ چلن

کس کے قدموں کی ہے یہ چاپ یقیناً ہے وہییہ یقیناً ہے وہی سرو چمن، بنت بہار

کوئی رُت آئے زمانہ نہیں بدلے گا اسےجان من تم ہو؟ نہیں ! وہ لب و عارض وہ نکھار؟

نغمگی جسم کی، وہ لوچ سا نشہ سا مدامایک چلتا ہوا جادو سا نگاہوں کا قرار؟

سچ کہو تم ہی ہو؟ آتا نہیں آنکھوں کو یقیں؟

— اخترالایمان