18 اشعار

اذیت پرست

Azziyat Parast

اذیت پرست

«اذیت پرست» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ ہے۔

میں بظاہر جو بہت سادہ ہوں بے حس نظر آتا ہوں تمھیںایسا دریا ہوں جہاں سطح کے نچےہ چپ چاپ

موجیں شوریدہ ہیں، طوفان اٹھا کرتے ہیںٹھہرا پانی ہوں، مگر اس میں بھنور پڑتے ہیں

زخم سب اپنے چھپائے ہیں، ہنسی کے پیچھےصرف اس واسطے شانوں پہ ردائے تہذیب

ڈالے رہتا ہوں کہ حیواں نہ کہے کوئی مجھےوہ ثقافت جسے کہتے ہیں، اثاثہ، ورنہ

سالہا سال کی محنت ہے جو انسانوں کیمیرے اِک فعل سے غارت نہ کہیں ہو جائے

ورنہ تم سامنے آتی ہو تو سر سے پا تکدوڑ جاتی ہے کبھی آگ سی تیزاب سا اک شعلہ سا

تم کو معلوم ہے اس دور میں میرے دن راتصرف اس واسطے با معنی ہیں تم سامنے ہو

تم کو معلوم ہے یہ گردش ایام مجھےکیوں بھلی لگتی ہے، کیوں دیکھ کے تم کو آنکھیں

مسکرا اٹھتی ہیں، میں شاد نظر آتا ہوںمیں جو اس پھیلی ہوئی دنیا میں یوں جیتا تھا

جیسے یہ بستی نہیں، شہر ہے اک لاشوں کاجس میں انسان نہیں مردے ہیں کفن پہنے ہوئے

اور ان مردوں میں لب سوختہ، میں بھی ہوں کہیںتم نے احساس دلایا نہیں، میں لاش نہیں

اپنی گفتار کی گرمی سے حرارت بخشیمنجمد خون کو دوڑا دیا شریانوں میں

کھینچ لائیں مجھے، تنہائی کی دنیا سے یہاںمیں الف لیلیٰ کا کردار نہیں ہوں کوئی

تم بھی افسانوی محبوبہ نہیں اور نہ تھیںپھر روایاتی ستم کیوں کیا تم نے مجھ پر؟

خود ہی وارفتہ ہوئیں، کھینچ گئیں خود ہی ایسےجیسے میں واقعی اِک لاش ہوں چلتی پھرتی

اب تمھیں دیکھ کے میں دل سے دعا کرتا ہوںلاش بن جاؤں میں، سچ مچ ہی، یہ بیگانہ روی

یہ نیا طرزِ وفا، تم نے جو سیکھا ہے ابھیکچے شیشے کی طرح ٹوٹ کے ریزہ ہو جائے

اور تم مجھ سے ہر اک خوف کو ٹھکراتے ہوئےچیخ کر ایسے لپٹ جاؤ، کلیجہ پھٹ جائے!

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں