8 اشعار

سلسلے ٹوٹ گئے ۔۔۔

silsile toot gaye...

سلسلے ٹوٹ گئے ۔۔۔

«سلسلے ٹوٹ گئے ۔۔۔» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

اٹھ گیا رات کے چہرے سے ستاروں کا کفنسبزہ وگل پہ ابھی تک ہے وہی پہلا نکھار

صبح کی آنکھ میں انگڑائیاں لیتا ہے خماردن کے ہمراہ چلا قافلۂ رنگ وبہار!

سینۂ خاک پہ رقصاں ہے وہی روحِ حیاتوہی کلیوں کی خموشی ، وہی غنچوں کا ثبات

نور خورشید سے زروں کی جبیں روشن ہے !دشت و کہسار میں ہے پھر وہی کرنوں کا خرام

پھر وہی شور ، وہی کشمکشِ دانہ ودامپھر اسی مرکزِ آلام پہ لوٹ آیا ہوں

پھر وہی حسن سے حیوان کی چارہ جوئیپھر وہ انسان سے انسان کی چارہ جوئی

سلسلے ٹوٹ گئے خواب کی زنجیروں کےمیری پلکوں پہ ستارے سے لرز کر ٹوٹے

اس کے ہونٹوں پہ سہارے سے لرز کر ٹوٹے

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں