8 اشعار

پس منظر

Pas Manzar

پس منظر

«پس منظر» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

کس کی یاد چمک اٹھی ہے دھندلے خاکے ہوئے اجاگریونہی چند پرانی قبریں کھود رہا ہوں تنہا بیٹھا

کہیں کسی کا ماس نہ ہڈی کہیں کسی کا روپ نہ چھایاکچھ کتبوں پر دھندلے دھندلے نام کھدے ہیں میں جیون بھر

ان کتبوں ان قبروں ہی کو اپنے من کا بھید بنا کرمستقبل اور حال کو چھوڑے، دکھ سکھ سب میں لیے پھرا ہوں

ماضی کی گھنگھور گھٹا میں چپکا بیٹھا سوچ رہا ہوںکس کی یاد چمک اٹھی ہے، دھندلے خاکے ہوئے اجاگر؟

بیٹھا قبریں کھود رہا ہوں، ہوک سی بن کر ایک اک مورتدرد سا بن کر ایک اک سایا، جاگ رہے ہیں دور کہیں سے

آوازیں سی کچھ آتی ہیں، ''گزرے تھے اک بار یہیں سے''حیرت بن کر دیکھ رہی ہے، ہر جانی پہچانی صورت

گویا جھوٹ ہیں یہ آوازیں، کوئی میل نہ تھا ان سب سےجن کا پیار کسی کے دل میں اپنے گھاؤ چھوڑ گیا ہے

جن کا پیار کسی کے دل سے سارے رشتے توڑ گیا ہےاور وہ پاگل ان رشتوں کو بیٹھا جوڑ رہا ہے کب سے!

— اخترالایمان