غزل 6 اشعار

کون سنتا ہے صرف ذات کی بات

Kaun sunta hai sirf zat ki baat

کون سنتا ہے صرف ذات کی باتلب پہ ہے میرے کائنات کی بات

کیوں شکن پڑ گئی ہے ابرو پرمیں تو کہتا ہوں ایک بات کی بات

شمع روتی ہے تارے ڈوبتے ہیںاب فسانہ بنے گی رات کی بات

صبح نو مسکرانے والی ہےکیا کہیں شب کے حادثات کی بات

مضطرب ہو رہے ہیں دیوانےہے تمہاری نوازشات کی بات

بزم اخترؔ میں کیوں خموش ہو تمہے یہ بے جا تکلفات کی بات

— اختر انصاری اکبر آبادی