غزل 7 اشعار

کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہو

Koshish-e-paiham ko sai-e-raegan kahte raho

کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہوہم چلے اب تم ہماری داستاں کہتے رہو

گفتنی باتیں سہی نا گفتنی باتیں سہیچپ نہ بیٹھو کوئی افسانہ یہاں کہتے رہو

مصلحت کیا بات جو حق ہی وہ کہہ دو برملالاکھ ہوں احباب تم سے بد گماں کہتے رہو

ہم کہ تھے آزاد آزادی کی خاطر مر گئےجینے والو تم قفس کو آشیاں کہتے رہو

صرف کہنے سے زمیں کیا آسماں ہو جائے گیکچھ نہیں ہوگا زمیں کو آسماں کہتے رہو

راہ کیا منزل ہے کیسی ہر حقیقت ہے فریبکارواں کو بھی غبار کارواں کہتے رہو

کیوں کرو اخترؔ کی باتیں وہ تو اک دیوانہ ہےتم تو یارو اپنی اپنی داستاں کہتے رہو

— اختر انصاری اکبر آبادی