7 اشعار

نیاز و ناز کا یہ سلسلہ نہیں جاتا

Niyaz-o-naaz ka yeh silsila nahin jata

نیاز و ناز کا یہ سلسلہ نہیں جاتاجفا کو چھیڑ کے شوق وفا نہیں جاتا

کھٹک رہی ہیں جو رگ رگ میں پیرتی پھانسیںکسی سے ایک ٹھکانے رہا نہیں جاتا

جو آپ وجہ نہ پوچھیں تو ایک بات کہوںبغیر آپ کے مجھ سے جیا نہیں جاتا

خطا معاف بہت دے دیا تمہارا ساتھاب اپنے حال پہ مجھ سے ہنسا نہیں جاتا

یہ اور بات ہے جب بھی اٹھا دئے جائیںتمہاری بزم سے لیکن اٹھا نہیں جاتا

عجیب تیر کلیجے پہ کھائے بیٹھا ہوںعجیب زخم کہ جس کا مزا نہیں جاتا

جہاں بناتے ہوں قسمت مٹا کے خودداریزمانہ جائے تو جائے رضاؔ نہیں جاتا

— آل رضا رضا