7 اشعار

جنوں بگڑی ہوئی حالت کے بننے کا گماں کب تک

Junoon bigdi hui halat ke banne ka guman kab tak

جنوں بگڑی ہوئی حالت کے بننے کا گماں کب تکگریباں جا چکا کب کا رہیں گی دھجیاں کب تک

محبت نا شناسوں میں محبت کی فغاں کب تکنہ جانے کٹ کے دل سے کام دے گی اب زباں کب تک

تہیہ کر چکے جس بے وفا کو بھول جانے کااسی کی یاد آخر دل میں لے گی چٹکیاں کب تک

ادھر تنکا اٹھایا اور ادھر پھر برق نے پوچھاکہ پھر تیار ہو جائے گا بن کر آشیاں کب تک

کھلے کچھ پیکر امید یا یہ وہم مٹ جائےنظر آئیں گی دھندھلی دھندھلی سی پرچھائیاں کب تک

تمہاری آس پر کس کس طرح دل کو نہ سمجھایامگر یہ اہتمام خود فریبی مہرباں کب تک

رضاؔ کب سے یہی فریاد ہے باغ تمنا کیمجھے لوٹے چلا جائے گا میرا باغباں کب تک

— آل رضا رضا