10 اشعار

ہے مذاق زندہ دلی یہی اسی مصلحت نے مزا دیا

Hai mazaq-e-zinda-dili yehi isi maslihat ne maza diya

ہے مذاق زندہ دلی یہی اسی مصلحت نے مزا دیانہ جدا ہو دل سے کسک کبھی وہ مزاج درد بنا دیا

میں ابھی کہاں تھا دل حزیں جو کھلی ہے آنکھ تو کچھ نہیںمرا فرش خاک تو ہے وہیں مجھے عرش خواب نے کیا دیا

کوئی حق تھا جس کا گلہ کروں کوئی تم سے کہنے کی بات ہےکہ ہنسی خوشی کے سلوک کا جو رواج تھا وہ اٹھا دیا

مرے درد دل کی کسے خبر کہ غریب دل کا پیامبروہی رنگ رخ تھا کسی قدر جو ہنسی میں سب نے اڑا دیا

ہے مغالطہ بھی عجیب شے وہ نہ یاد آئے گا تا بہ کےجو چھپا کے اپنے ہی ذہن میں یہ سمجھ لیا کہ بھلا دیا

رہ و رسم عشق کی منزلیں وہ نزاکتیں وہ لطافتیںکبھی لطف آفت جاں بنا کبھی جھڑکیوں نے مزا دیا

وہ تلون دم ہوش تھا کبھی کچھ بنے کبھی کچھ بنےیہ جنون عشق کی شان ہے جو بنا دیا سو بنا دیا

یہ چراغ میری امید کا یہ گھڑی گھڑی ترا مشغلہکبھی دور ہی سے جلا دیا کبھی پاس آ کے بجھا دیا

جو نظر ملی تو یہ سوچ تھا کہ سوال آپ سے کیا کروںجو کیا سوال تو سوچ ہے کہ جواب آپ نے کیا دیا

ہے رضاؔ یہ حسب مقام دل کہ پیام دل ہو بہ نام دلکوئی قدردان کلام دل کہیں مل گیا تو سنا دیا

— آل رضا رضا