7 اشعار

پہونچی نہ دل کی بات حدود پیام تک

Pahunche na dil ki baat hudood-e-payam tak

پہونچی نہ دل کی بات حدود پیام تکباقی ہیں ان پہ کتنے جواب سلام تک

بت خانہ ساز رنگ زمانہ ہے کس قدرچھوڑا نہ اس نے کعبۂ عالی مقام تک

مانوس ہو رہے ہیں تری جلوہ گاہ سےپہونچے ابھی ہیں منزل ماہ تمام تک

جب تک رہے وہ میری نگاہوں کے سامنےٹھہری نہ ایک رخ سے ادائے خرام تک

دل دے کے ان کو آپ سے ایسے گزر گئےجیسے کہ ہم تھے صرف اسی انتظام تک

انجام کار شب کے اندھیرے میں لٹ گیارکھا تھا کیف صبح بچا کر جو شام تک

اس طرح کر رہے ہیں رضاؔ کا وہ تذکرہخالی نہیں ہے طنز سے حسن کلام تک

— آل رضا رضا