9 اشعار

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے

kah do ko'ī sāqī se ki ham marte haiñ piyāse

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے

«کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسےگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سے

جو کچھ ہے سو ہے اس کے تغافل کی شکایتقاصد سے ہے تکرار نہ جھگڑا ہے صبا سے

دلالہ نے امید دلائی تو ہے لیکندیتے نہیں کچھ دل کو تسلی یہ دلاسے

ہے وصل تو تقدیر کے ہاتھ اے شہ خوباںیاں ہیں تو فقط تیری محبت کے ہیں پیاسے

پیاسے ترے سرگشتہ ہیں جو راہ طلب میںہونٹوں کو وہ کرتے نہیں تر آب بقا سے

در گزرے دوا سے تو بھروسے پہ دعا کےدر گزریں دعا سے بھی دعا ہے یہ خدا سے

اک درد ہو بس آٹھ پہر دل میں کہ جس کوتخفیف دوا سے ہو نہ تسکین دعا سے

حالیؔ دل انساں میں ہے گم دولت کونینشرمندہ ہوں کیوں غیر کے احسان و عطا سے

جب وقت پڑے دیجیے دستک در دل پرجھکئے فقرا سے نہ جھمکیے امرا سے

— الطاف حسین حالی