4 اشعار

ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا

Hua jo paiwand mein zameen ka to dil hua shad mujh hazeen ka

ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا

«ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کابس اب ارادہ نہیں کہیں کا کہ رہنے والا ہوں میں یہیں کا

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کرجو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

ہوائے مے میں ہوں محو ایسا چمن میں گھر کر جو ابر آیاسیہ مستی میں میں یہ سمجھا جہاز ہے آب آتشیں کا

امیرؔ دیکھا جو اس کا نقشہ تو نقشہ یوسف کا دل سے اتراکہ نقش ثانی کے آگے ہوتا فروغ کیا نقش اولیں کا

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں