18 اشعار

خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ

Khanjar-e-qaatil na kar itna rawani par ghamand

خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ

«خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈسخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ

شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈصورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ

ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈبسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ

ناز اُٹھانے کا ہے اس کے حوصلہ اے جانِ زاراب تلک تجھ کو ہے زور ناتوانی پر گھمنڈ

نوبت شاہی سے آتی ہے صدا شام و سحراور کر لے چار دن اس دار فانی پر گھمنڈ

دیکھ او نادان کہ پیری کا زمانہ ہے قریبکیا لڑکپن ہے کہ کرتا ہے جوانی پر گھمنڈ

چار ہی نالے ہمارے سن کے چپکی لگ گئیتھا بہت بلبل کو اپنی خوش بیانی پر گھمنڈ

عفو کے قابل مرے اعمال کب ہیں اے کریمتیری رحمت پر ہے تیری مہربانی پر گھمنڈ

شمع محفل شامت آئی ہے تری خاموش ہودل جلوں کے سامنے آتش زبانی پر گھمنڈ

طبع شاعر آ کے زوروں پر کرے کیوں کر نہ نازسب کو ہوتا ہے جوانی میں جوانی پر گھمنڈ

چار موجوں میں ہماری چشم تر کے رہ گیاابر نیساں کو یہی تھا ڈر فشانی پر گھمنڈ

دیکھنے والوں کی آنکھیں آپ نے دیکھی نہیںحق بجانب ہے اگر ہے لن ترانی پر گھمنڈ

عاشق و معشوق اپنے اپنے عالم میں ہیں مستواں نزاکت پر تو یاں ہے ناتوانی پر گھمنڈ

تو سہی کلمہ ترا پڑھوا کے چھوڑوں اے صنمزاہدوں کو ہے بہت تسبیح خوانی پر گھمنڈ

سبزہ خط جلد یارب رخ پر اُس کے ہو نمودخضر کو ہے اپنی عمر جاودانی پر گھمنڈ

گور میں کہتی ہے عبرت قیصر و فغفور سےکیوں نہیں کرتے ہو اب صاحب قرانی پر گھمنڈ

ہے یہی تاثیر آبِ خنجر جلّاد میںچشمۂ حیواں نہ کر تو اپنے پانی پر گھمنڈ

حال پر اجداد و آبا کے تفاخر کیا امیرہیں وہ ناداں جن کو ہے قصے کہانی پر گھمنڈ

— امیر مینائی