6 اشعار

منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ

Munh phir na kar watan ki taraf yoon watan ko chhod

منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ

«منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑچھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑمیلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ

ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھغربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ

کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دماب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ

تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہےاے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ

شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیرآرام چاہتا ہے تو مشقِ سخن کو چھوڑ

— امیر مینائی