18 اشعار

قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میں

Qazi bhi ab to aaye hain bazm-e-sharaab mein

قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میں

«قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میں» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میںساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں

جا پائی خط نے اس کے رخِ بے نقاب میںسورج گہن پڑا شرفِ آفتاب میں

دامن بھرا ہوا تھا جو اپنا شراب میںمحشر کے دن بٹہائے گئے آفتاب میں

رکھا یہ تم نے پائے حنائی رکاب میںیا پھول بھر دئیے طبقِ آفتاب میں

تیرِ دعا نشانے پہ کیونکر نہ بیٹھتاکچھ زور تھا کماں سے سوا اضطراب میں

وہ ناتواں ہوں قلعۂ آہن ہو وہ مجھےکر دے جو کوئی بند مکانِ حباب میں

حاجت نہیں تو دولتِ دنیا سے کام کیاپھنستا ہے تشنہ دام فریبِ سراب میں

مثلِ نفس نہ آمد و شد سے ملا فراغجب تک رہی حیات، رہے اضطراب میں

سرکش کا ہے جہاں میں دورانِ سر مآلکیونکر نہ گرد باد رہے پیچ و تاب میں

چاہے جو حفظِ جان تو نہ کر اقربا سے قطعکب سوکھتے ہیں برگِ شجر آفتاب میں

دل کو جلا تصور حسنِ ملیح سےہوتی ہے بے نمک کوئی لذت، کباب میں

ڈالی ہیں نفسِ شوم نے کیا کیا خرابیاںموذی کو پال کر میں پڑا کس عذاب میں

اللہ رے تیز دستیِ مژگانِ رخنہ گربے کار بند ہو گئے ان کی نقاب میں

چلتا نہیں ہے ظلم تو عادل کے سامنےشیطاں ہے پردہ در کہ ہیں مہدی حجاب میں

کچھ ربط حسن و عشق سے جائے عجب نہیںبلبل بنے جو بلبلہ اٹھّے گلاب میں

چومے جو اس کا مصحفِ رخ زلف میں پھنسےمارِ عذاب بھی ہے طریقِ ثواب میں

ساقی کچھ آج کل سے نہیں بادہ کش ہیں بنداس خاک کا خمیر ہوا ہے شراب میں

جب نامہ بر کیا ہے کبوتر کو اے امیراس نے کباب بھیجے ہیں خط کے جواب میں

— امیر مینائی