5 اشعار

دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں

Din le ke jaaun saath, usay shaam kar ke aaun

دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں

«دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤںبے کار کے سفر میں کوئی کام کر کے آؤں

بے مول کر گئیں مجھے گھر کی ضرورتیںاب اپنے آپ کو کہاں نیلام کر کے آؤں

میں اپنے شور و شر سے کسی روز بھاگ کراک اور جسم میں کہیں آرام کر کے آؤں

کچھ روز میرے نام کا حصہ رہا ہے وہاچھا نہیں کہ اب اسے بد نام کر کے آؤں

انجمؔ میں بد دعا بھی نہیں دے سکا اسےجی چاہتا تو تھا وہاں کہرام کر کے آؤں

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں