5 اشعار

میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں

Main jab wajood se hote hue guzarta hoon

میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں

«میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوںخود اپنے آپ پہ روتے ہوئے گزرتا ہوں

اسی لیے تو مجھے تو دکھائی دیتا نہیںمیں تیرے خواب سے سوتے ہوئے گزرتا ہوں

گلہ گزار دلوں سے مرا گزر ہے میاںمیں موتیوں کو پروتے ہوئے گزرتا ہوں

وہی زمانہ مری راہ روک لیتا ہےمیں جس زمانے سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں

تری گلی سے بھی ہو آؤں اور پتہ نہ چلےجبیں کے داغ کو دھوتے ہوئے گزرتا ہوں

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں