7 اشعار

اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا

Usay chhote hue bhi dar raha tha

اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا

«اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھاوہ میرا پہلا پہلا تجربہ تھا

اگرچہ دکھ ہمارے مشترک تھےمگر جو دو دلوں میں فاصلہ تھا

کبھی اک دوسرے پر کھل نہ پائےہمارے درمیاں اک تیسرا تھا

وہ اک دن جانے کس کو یاد کر کےمرے سینے سے لگ کے رو پڑا تھا

اسے بھی پیار تھا اک اجنبی سےمرے بھی دھیان میں اک دوسرا تھا

بچھڑتے وقت اس کو فکر کیوں تھیبسر کرنی تو میرا مسئلہ تھا

وہ جب سمجھا مجھے اس وقت انجمؔمرا معیار ہی بدلا ہوا تھا

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں