18 اشعار

سجدہءشکر بھی ادا نہ ہوا

Sajda-e-shukr bhi ada na hua

سجدہءشکر بھی ادا نہ ہوا

«سجدہءشکر بھی ادا نہ ہوا» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

سجدہءشکر بھی ادا نہ ہواخود ہی کہا تھا

جب تک جاگ رہا ہوں تب تکتم میرا بستر بن جاؤ

یا پھر یوں ہی....زانو پر سر رکھ کر لیٹا رہنے دو

تھک جاؤ،... یا سو جاؤںتو بےشک میرے سر کے نیچے اینٹ کا تکیہ رکھ جانا

آنکھ کھلی تو دیکھاسر کے نیچے اینٹ کا تکیہ تھا

اور ماتھے پر محراب نے جگہ بنا لی تھی(کہیں نہیں تھا اس کے بدن کا ریشمی بستر

کہیں نہیں تھاکانوں میں سرگوشیاں کرتا

پٹ سن کے زانو کا تکیہ)جانے کب تک...

کتنی عمروں.....میں اس اینٹ کو شہروں شہروں، گلیوں گلیوں لئے لئے پھرتا رہتا تھا

نیند آتی تو تکیہ کرتاجاگتا تو محراب بناتا

آج اک عمر کی نیند تمام ہوئی تو دیکھامیں اک اینٹ کی مسجد میں

چھ فیٹ کی صف پر بچھا پڑا ہوںسر کی طرف اک پٹ سن کی سی محراب کھڑی ہے

(کیا یہ پٹ سن کی سی اینٹ وہی ہے؟یا اس کا زانو ہے؟؟!!!)

حیرت اور خوشی میں، میں تو اپنا مرنا بھول گیا ہوںاب اس اینٹ کو شکرانے کا اک سجدہ مجھ پر واجب ہے

(قبل اس کے مرا نامہء اعمال کھلےاور ہر صفحے پر ناشکری میں لپٹا یہی غفلت کا لمحہ

حرف جلی میں لکھ دیا جائے...)اینٹ کے رخ پر، اک بوسے اور اک سجدے کا قرض ہے مجھ پر

لیکن کیا ہے.....مہلت ختم ہوئی جاتی ہے

مٹی کی کبڑی چھت اتنی جھکی ہوئی ہےسجدے میں جانا مشکل ہے،

— انجم سلیمی