6 اشعار

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

Baiṭhā hūñ vaqf-e-mātam-e-hastī miṭā huā

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

«بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوازہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا

خود اس کے پاس جاؤں نہ اس کو بلاؤں پاسپایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا

اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنیقاتل ہے میرے حجلۂ‌‌ جاں میں چھپا ہوا

ہیں جسم و جاں بہم یہ مگر کس کو ہے خبرکس کس جگہ سے دامن دل ہے سلا ہوا

ہے راہوار شوق پہ آسیب بے دلیرکھا ہے کب سے سامنے ساغر بھرا ہوا

حاصل ہے جس کو عرشؔ فضاؤں میں اختیاروہ دل کے ساتھ کھیل رہا ہے تو کیا ہوا

— عرش صدیقی