10 اشعار

آسیب

Āseb

آسیب

«آسیب» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

تری رہ گزر کو میں یوں چھوڑ آیاکہ اک بے نوا کی تباہی کا تجھ پر نہ الزام آئے

میں سمجھا تھا یوں شہر کی رونقوں میں الجھ کرتری بے نیازی کے آسیب سے بچ رہوں گا

مگر جب کبھی میں سر شام کیفے میں پہنچاتو دیکھا

کہ تو حال کے ایک کونے میں اک میز پر سر جھکائےنہ جانے کسے نامۂ مشکبو لکھ رہا ہے

کبھی مال پر میں نے ٹیکسی جو روکیتو دیکھا

کہ ٹیکسی میں پہلے سے اک آشنا چہرۂ دل نشیں کی ضیا ہےہمیشہ یہ تو تھا

کبھی شام کو میں کسی سنیما حال میں جا کے بیٹھاتو دیکھا

کہ پہلو میں تو ہےکئی بار میں نے تجھے گلشن فاطمہؓ کی ہری گھاس پر بیٹھے دیکھا

کئی بار بازار میں تو مرے ساتھ چلتا رہا دیر تک اورکئی بار تو میرے گھر تک مرے ساتھ آیا

اور اب اپنے تاریک کمرے میں بیٹھا ہوا سوچتا ہوںتری رہ گزر کو میں کیوں چھوڑ آیا

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں