30 اشعار

باز گشت

Bāz gasht

باز گشت

«باز گشت» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

میں تیری بستی سے بھاگ کر دور اک خرابے میں آ گیا ہوںیہ وہ خرابہ ہے جس میں ہستی کی روشنی کا گزر نہیں ہے

یہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہےیہاں ہے وہ عالم خموشی کہ دل کی دھڑکن بھی بے صدا ہے

کہ میری تنہائیوں کے دامن‌ افق کے دامن سے جا ملے ہیںترے نگر کے حسین کوچے شفیق گلیاں جو زیست کی روشنی کا گھر ہیں

مرے لیے میری بے بسی نے انہیں شب آلود کر دیا ہےوہ رہ گزر تیرے نقش پا پر جہاں ہزار آستاں بنے ہیں

وہ رہ گزر اجنبی ہوئے ہیںجہاں میں اب ہوں وہاں اگرچہ ہے بے کراں تیرگی فضا میں

مگر یہاں بھی مرے خیالوں میں مہر بن کر ترا سراپا دمک رہا ہےہوا کے بے کیف سرد جھونکے جو زرد پتوں سے کھیلتے ہیں

تو میری بے آب خشک آنکھیں تجھے خلاؤں میں ڈھونڈھتی ہیںمرا تخیل کہ اس خرابے سے بد گماں ہے

مرے جنوں کو جھنجھوڑتا ہے تو سوچتا ہوںاگرچہ تو ایک وہ حقیقت ہے جس کا اقرار لا‌‌ بدی ہے

مگر یہ تیرا وجود میرے لیے فقط ایک واہمہ ہےکہ تیری زلفوں کو میرے شانوں نے اپنی دنیا سے دور پایا

کہ میرے اشکوں کو تیرے دامن کی آرزو ہی رہی ہمیشہمگر یہ خوش تھا

کہ میرے غم نے ترے تخیل میں وہ ستارے سے بھر دئے تھےچراغ جن کے نہ بجھ سکے ہیں نہ بجھ سکیں گے

یہ سب تھا لیکن جنوں پہ کچھ ایسی قدغنیں تھیںکہ جذب دل حرف مدعا کو نہ پا سکا تھا

کبھی کوئی درد لفظ بن کر مری زباں پر نہ آ سکا تھامگر نہ جانے وہ کیا تھا جس نے دلوں کے پردے اٹھا دئے تھے

جنوں کے اسرار واقعے تھےتہی‌‌ زباں ہم ہوئے تھے لیکن زباں کے محتاج کب رہے تھے

کہ ہم نگاہوں سے دل کے پیغام بھیجتے تھےیہ سب تھا لیکن میں کرب جاں‌ سوز کا امیں تھا

وہ کرب جاں سوز تھا کہ میری حیات سے نیند بد گماں تھیاور اس خرابے میں جس میں ہستی کی روشنی کا گزر نہیں ہے

جہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہےمرا گماں تھا یہاں تجھے خود سے دور پا کر میں کرب سے جاں بچا سکوں گا

تجھے کبھی تو دماغ و دل سے ہٹا سکوں گاتجھے کبھی تو بھلا سکوں گا

مگر یہ اک اور واہمہ تھاقیامتیں سوز درد دل میں نہاں وہی ہیں

عبث غم زندگی سے میں نے فرار چاہااسی طرح کرب جاں گزا سے میں اب بھی آتش بجا ہوں ہر دم

کہ اب ترا شہر چھوڑنے کا اک اور غم ہےاگرچہ تیرا وجود میرے لیے فقط ایک واہمہ تھا

اگرچہ تیرا وجود میرے لیے فقط ایک واہمہ ہےمگر ترا پیکر مثالی مرے خیالوں میں جاگزیں ہے

کہ وہ کسی دل کشا حقیقت کا بھی امیں ہےاور اس سے مجھ کو مفر نہیں ہے

میں سوچتا ہوں کہ اس خرابے سے لوٹ جاؤںجہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہے

جہاں مجھے آج یہ بھی غم ہےکہ میں نے شہر حبیب چھوڑا

وفا سے میں نے وفا نہیں کیمیں سوچتا ہوں کہ اس خرابے سے لوٹ جاؤں

وہیں جہاں میں نے زندگی کا سکون ڈھونڈامگر نہ پایا

وہیں جہاں میں نے روشنی کے سراب دیکھےحقیقتوں پر نقاب دیکھے

وہیں جہاں میں نے راحتوں کے حباب دیکھےوہیں ملے گا سکوں اگر مجھ کو زندگی میں کہیں ملے گا

مگر یہ اک خوف میرا دامن اسی خرابے سے باندھتا ہےکہ اس جگہ پھر اگر جنوں نے سکوں نہ پایا تو کیا کروں گا

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں