7 اشعار

اس نے مجھے کیوں روکنا چاہا

Us ne mujhe kyūñ roknā chāhā

اس نے مجھے کیوں روکنا چاہا

«اس نے مجھے کیوں روکنا چاہا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

مجھے اس سے تعلق تھا تو بس اتناکہ میری چند سانسیں کھو گئی تھیں اس کی بستی میں

مگر میں نے اسے اپنی محبت کا امیں جانانہ اس نے ہی کبھی گلیوں میں چھپ چھپ کر مجھے دیکھا

کبھی ہم راہ میں اک دوسرے کے سامنے آئےتو یوں جیسے کسی خاموش اسٹیشن پہ دو سادہ مسافر

ریل کی آمد پر اک دم چونک کر اک دوسرے کو خوف سے دیکھیںاب اس کے اور میرے درمیان تلوار سی کالی مسافت ہے

مگر میں سوچتا رہتا ہوں جب کوئی نہ تھا ایسا تعلق درمیاںجس کو میں چاہت کا ثمر کہتا

تو وہ کیوں فاصلہ دے کر بھری بستی کی سرحد تک مرے پیچھے چلا آیااور اس نے اپنی بھیگی بولتی آنکھوں کی حسرت سے

مجھے کیوں روکنا چاہا

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں