7 اشعار

بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے

Bas ek hī kaifiyat-e-dil sub.h o masā hai

بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے

«بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔

بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہےہر لمحہ مری عمر کا زنجیر بہ پا ہے

میں شہر کو کہتا ہوں بیاباں کہ یہاں بھیسایہ تری دیوار کا کب سر پہ پڑا ہے

ہے وقت کہ کہتا ہے رکوں گا نہ میں اک پلتو ہے کہ ابھی بات مری تول رہا ہے

میں بزم سے خاکستر دل لے کے چلا ہوںاور سامنے تنہائی کے صحرا کی ہوا ہے

آواز کا تیشہ ہے نہ خاموش تکلمتالا جو زباں پر تھا وہ اب دل پہ پڑا ہے

میں ساتھ لئے پھرتا ہوں سامان‌ ہلاکترگ رگ میں مری زہر وفا دوڑ رہا ہے

کیا کیا ہیں تمنائیں دل‌ خاک‌ بسر میںیہ قافلہ ویرانے میں کیوں ٹھہرا ہوا ہے

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں